ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بینک اور انشورنس ملازمین کی8جنوری سے دو روزہ ہڑتال ملک بھر کے 150 ملین ورکرس حصہ لیں گے

بینک اور انشورنس ملازمین کی8جنوری سے دو روزہ ہڑتال ملک بھر کے 150 ملین ورکرس حصہ لیں گے

Mon, 31 Dec 2018 11:18:56    S.O. News Service

حیدرآباد31دسمبر(ایس او نیوز؍یواین آئی)آل انڈیا بینک ایمپلائز اسوسی ایشن(اے آئی بی ای اے )،آل انڈیا انشورنس ایمپلائز اسوسی ایشن(اے آئی آئی ای اے )،جنرل انشورنس ایمپلائز آل انڈیا اسوسی ایشن(جی آئی ای اے آئی اے )،بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا(بی ای ایف آئی)اور آل انڈیا ایل آئی سی ایمپلائز فیڈریشن(اے آئی ایل آئی سی ای ایف)نے نیشنل ٹریڈ یونین کنونشن کی جانب سے8جنوری سے دو روزہ ہڑتال میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے ۔ملک کے تمام محنت کش طبقہ کی جانب سے اس ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے جس کا اہتمام اہم مرکزی ٹریڈ یونینوں آئی این ٹی یو سی،اے آئی ٹی یو سی، ایچ ایم ایس، سی آئی ٹی یو،اے آئی یو ٹی یو سی، ٹی یو سی سی ،ایس ای ڈبلیو اے ، اے آئی سی سی ٹی یو، ایل پی ایف اور یو ٹی یوسی کے ساتھ ساتھ بیشتر شعبہ جات بشمول بینکنگ اور انشورنس شعبہ کی دیگر آزادانہ ٹریڈ یونین فیڈریشن کی جانب سے کیا گیا ہے ۔اے آئی بی ای اے کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم ، اے آئی آئی ای اے ، جی آئی ای اے آئی اے ، بی ای ایف آئی اور اے آئی ایل آئی سی ای ایف لیڈروں وی رمیش، کے گووندن ، پردیپ بسواس اورراجیش کمار نے اپنے تمام یونٹس اور ارکان کو لکھے گئے مکتوب میں کہاکہ یہ ہڑتال اہم جدوجہد ہوگی تاکہ مرکزی حکومت کی موافق سرمایہ دارانہ ،موافق کارپوریٹ معاشی پالیسیوں اور اس کے مخالف مزدور محنت کش طبقہ کی اصلاحات پرخطرناک منفی اثرات کو اجاگر کیاجاسکے ۔ملک بھر سے کم وبیش 150ملین ورکرس توقع ہے کہ اس دوروزہ ہڑتال میں حصہ لیں گے ۔تیاری کے پروگرام کے طورپر ہم نے ہمارے تمام یونٹس اور تمام مراکز کے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ3او4جنوری کو مظاہروں کا اہتمام کریں ۔ان لیڈروں نے یہ بات بتائی۔انہوں نے کہاکہ ترقی کے نام پر مرکزی حکومت ایسی پالیسیوں پر عمل کررہی ہے جس کی بنیاد پر عام آدمی کی قیمت پر امیر ، امیرترین ہوگا۔مزدوروں کی پالیسیوں میں ترمیم کی جارہی ہے اور آجر طبقہ کی ضرورت کے لحاظ سے ان کو شکل دی جارہی ہے تاکہ محنت کش طبقہ کو نقصان پہنچایاجاسکے ۔لیبر اصلاحات کے نام پر ٹریڈیونین کے حقوق کو ختم کیاجارہا ہے اور ان کو کمزور کیا جارہا ہے ۔ایک طرف خودغرض آجروں کو فائدہ پہنچانے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے تو دوسری طرف یہاں تک کہ اقل ترین اجرت سے بھی ورکرس کو محروم رکھاجارہا ہے ۔


Share: